(120) Gold Went Parabolic — Bitcoin May Be Next - YouTube

 (120) Gold Went Parabolic — Bitcoin May Be Next - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=MGic6LuVEV4&list=WL&index=11


یہ کہانی سونا (Gold) اور بٹ کوائن (Bitcoin) کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ مارکیٹ میں قیمتیں اچانک کیسے بڑھتی ہیں۔ 


## سونے کی قیمت میں اچانک اضافے کی وجہ


سال 2025 سونے کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا جہاں اس کی قیمتیں بلندیوں کو چھونے لگیں۔ اس غیر معمولی اضافے کی اصل وجہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں (Central Banks) کی طرف سے سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری تھی۔ جب امریکہ نے روس کے اثاثے قبضے میں لیے، تو مرکزی بینکوں نے احتیاطاً سونے کی خریداری سالانہ 400 ٹن سے بڑھا کر 1,000 ٹن کر دی۔ 


دلچسپ بات یہ ہے کہ 2023 اور 2024 میں بھی بینکوں نے 1,000 ٹن سونا خریدا، لیکن تب قیمتیں مستحکم رہیں۔ مگر 2025 میں وہی مقدار خریدنے پر قیمتیں یکدم آسمان پر پہنچ گئیں۔ 


**مثال سے سمجھیں:**

فرض کریں ایک بازار میں ہر روز 100 کلو آٹے کی طلب ہے اور دکانداروں کے پاس پرانا اسٹاک موجود ہے۔ دو سال تک گاہک آٹا خریدتے رہے اور دکاندار پرانا مال نکالتے رہے، اس لیے قیمت نہیں بڑھی۔ لیکن جیسے ہی پرانا اسٹاک ختم ہوا اور خریدار اب بھی وہی 100 کلو مانگ رہے تھے، تو مال کی کمی کی وجہ سے قیمتیں اچانک دوگنی تگنی ہوگئیں۔ سونے کے ساتھ بھی یہی ہوا؛ جب پرانے مالکان اور مائنرز کے پاس بیچنے کے لیے مزید سونا نہ رہا، تو قیمتیں "پیرابولک" (یعنی انتہائی تیزی سے اوپر) چلی گئیں۔ 


---


## کیا بٹ کوائن بھی اسی راستے پر ہے؟


اب یہی صورتحال بٹ کوائن کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ جہاں سونے کو مرکزی بینک خرید رہے تھے، وہیں بٹ کوائن کو اب بڑے بڑے مالیاتی ادارے (Institutions) مسلسل خرید رہے ہیں۔ یہ ادارے مارکیٹ میں موجود سپلائی سے کہیں زیادہ بٹ کوائن خریدنے کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ 


اگرچہ ابھی کچھ لوگ اپنا بٹ کوائن بیچ رہے ہیں، لیکن یہ سپلائی لامحدود نہیں ہے۔ جیسے ہی بیچنے والے ختم ہوں گے اور اداروں کی خریداری جاری رہے گی، بٹ کوائن کی قیمت بھی اسی طرح تیزی سے اوپر جا سکتی ہے جیسے 2025 میں سونے کی گئی تھی۔ 


**آسان لفظوں میں خلاصہ:**

جب کسی چیز کو خریدنے والے زیادہ ہوں اور بیچنے والے ختم ہو جائیں، تو قیمت میں دھماکہ خیز اضافہ ہوتا ہے۔ سونے میں یہ ہو چکا ہے، اور بٹ کوائن میں اس کا ہونا اب بس وقت کی بات لگتی ہے۔ 


کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان "مالیاتی اداروں" (Institutions) کے بارے میں مزید تفصیل بتاؤں کہ وہ بٹ کوائن کیوں خرید رہے ہیں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔