(120) Bitcoin Is for Saving. Crypto Is for Gambling. - YouTube

 (120) Bitcoin Is for Saving. Crypto Is for Gambling. - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=rOQnslwc2dc&list=WL&index=16


دی گئی معلومات کی روشنی میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے درمیان فرق کو بہت ہی سادہ اور عام فہم انداز میں نیچے بیان کیا گیا ہے:


بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیوں کے درمیان ایک بہت بڑی دیوار ہے جسے سمجھنا ہر سرمایہ کار کے لیے ضروری ہے۔ بٹ کوائن کو "بچت" (Saving) کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ باقی تمام کرپٹو کرنسیاں زیادہ تر "جوا" یا "سٹہ بازی" (Gambling) کے زمرے میں آتی ہیں ۔


**بٹ کوائن: ایک محفوظ تجوری**

بٹ کوائن کو ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا مقصد وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی اور آپ کے خاندان کی دولت میں اضافہ کرنا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کی کل مقدار صرف 21 ملین (دو کروڑ دس لاکھ) مقرر ہے ۔ کوئی بھی حکومت یا ادارہ اپنی مرضی سے نئے بٹ کوائن نہیں چھاپ سکتا ۔ یہ مکمل طور پر غیر مرکزی (Decentralized) ہے، یعنی اس پر کسی ایک انسان یا کمپنی کا قبضہ نہیں ہے اور اگر آپ اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں تو اس کے مکمل مالک آپ خود ہوتے ہیں ۔ اسے موجودہ مالیاتی نظام سے نکلنے کا ایک راستہ (Exit) سمجھا جاتا ہے ۔


**کرپٹو: ایک چمکتا ہوا کیسینو**

دوسری طرف، دیگر کرپٹو کرنسیاں (جنہیں اکثر میم کوائنز یا آلٹ کوائنز کہا جاتا ہے) ایک کیسینو یا جوئے خانے کی طرح کام کرتی ہیں ۔ ان کا اصل مقصد آپ کو امیر بنانا نہیں بلکہ ایکسچینجز اور ان سکوں کے مالکان کے لیے منافع کمانا ہوتا ہے ۔ کرپٹو ایکسچینجز یہ چاہتی ہیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ تجارت (Trading) کریں تاکہ وہ فیسوں کے ذریعے پیسہ بنا سکیں ۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سی بڑی ایکسچینجز کسی بھی نئے سکے کو اپنے پلیٹ فارم پر لانے کے لیے بھاری فیس وصول کرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ کچھ مالکان اپنے کل سکوں کا 10 فیصد حصہ ایکسچینج کو دے کر اپنا سکہ وہاں لانچ کروا لیتے ہیں ۔ یہ سب کچھ محض ایک کاروباری لین دین ہے جس کا افادیت یا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔


**اشتہارات اور نفسیات**

کرپٹو کے اشتہارات بالکل اسی طرح ہوتے ہیں جیسے کھیلوں پر شرط لگانے یا جوئے کے اشتہارات ہوتے ہیں ۔ ان میں آپ کو "کم وقت میں زیادہ پیسہ" کمانے کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ آج کل بڑی ایکسچینجز ایسی مارکیٹس بھی بنا رہی ہیں جہاں لوگ محض پیش گوئیوں پر پیسہ لگاتے ہیں، جو کہ جوئے کی ہی ایک قسم ہے ۔ جب ملکی کرنسیوں کی قدر کم ہوتی ہے، تو لوگ بے بس ہو کر جلد امیر ہونے کے چکر میں ان کھیلوں کا حصہ بن جاتے ہیں ۔


**ایک سادہ مثال**

فرض کریں آپ کے پاس دو راستے ہیں:


1. **پہلا راستہ (بٹ کوائن):** آپ ایک ایسی زمین خریدتے ہیں جس کی مقدار محدود ہے اور آپ جانتے ہیں کہ مستقبل میں اس کی قیمت بڑھے گی کیونکہ مزید زمین نہیں بن سکتی۔ یہ "بچت" ہے۔

2. **دوسرا راستہ (کرپٹو):** آپ ایک ایسی لاٹری کی ٹکٹ خریدتے ہیں جس کی قیمت صرف اس بات پر اوپر نیچے ہوتی ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کتنی باتیں کر رہے ہیں یا کتنا "شور" (Hype) مچا رہے ہیں۔ یہ "جوا" ہے۔


**خلاصہ**

بٹ کوائن دولت کو محفوظ رکھنے کا ایک ٹھوس طریقہ ہے جبکہ باقی کرپٹو مارکیٹ محض قیاس آرائیوں اور افواہوں پر مبنی ہے ۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ ایک پائیدار مستقبل چاہتے ہیں یا قسمت کا پہیہ گھمانا چاہتے ہیں ۔


کیا آپ چاہیں گے کہ میں بٹ کوائن کو محفوظ طریقے سے اپنے پاس رکھنے (Self-custody) کے بارے میں مزید تفصیل بتاؤں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔