(120) Banks Built Walls—Bitcoin Walked Around Them - YouTube

 (120) Banks Built Walls—Bitcoin Walked Around Them - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=cUE0HJffRcI&list=WL&index=8


اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ کس طرح روایتی بینکوں نے اپنے اردگرد اونچی دیواریں کھڑی کر رکھی تھیں، لیکن بٹ کوائن اور نئی ٹیکنالوجی نے ان دیواروں کے اوپر سے راستہ بنا لیا ہے۔ ذیل میں اس کی مکمل تفصیل آسان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:


## بینکوں کا پرانا طریقہ کار


امریکہ میں بڑے مالیاتی اداروں کی تاریخ یہ رہی ہے کہ وہ اپنے گرد ایک ایسی "باڑ" یا دیوار بنا لیتے ہیں جس کا مقصد چھوٹے حریفوں اور نئی کمپنیوں کو مقابلے سے باہر رکھنا ہوتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ گاہک صرف ان کے نظام کے اندر ہی رہیں اور کہیں اور نہ جا سکیں ۔


## بینک کیوں خوفزدہ ہیں؟


آج کل چھوٹے اور بڑے بینک اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ "اسٹیبل کوائنز" (Stablecoins) اور کرپٹو جیسی نئی ٹیکنالوجیز ان کا درمیانی کردار ختم کر دیں گی ۔ جے پی مورگن (JP Morgan) کی ایک تحقیق کے مطابق، 2020 اور 2021 کے دوران جب لوگوں نے اپنے بینکوں سے پیسے نکال کر کرپٹو ایکسچینج (جیسے کوائن بیس) میں بھیجے، تو ان میں سے **88 فیصد پیسے کبھی واپس بینکنگ سسٹم میں نہیں آئے** ۔


## بینکوں کی طرف سے رکاوٹیں


جب بینکوں نے دیکھا کہ پیسہ باہر جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے روکنے کے لیے "رگڑ" یا مشکلات پیدا کیں ۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کرپٹو ایکسچینج سے اپنے بینک اکاؤنٹ میں پیسے واپس بھیجنے کی کوشش کرتا، تو بینک اکثر ان کے اکاؤنٹس بند کر دیتے تھے ۔ اس سختی کا مقصد لوگوں کو ڈرانا تھا تاکہ وہ بینک سے پیسہ باہر نہ نکالیں ۔


## مستقبل کی صورتحال


حقیقت یہ ہے کہ اگر بینک اپنے صارفین کو یہ نئی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کریں گے، تو لوگ (خاص طور پر نوجوان نسل) ان بینکوں کو چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے جہاں بہتر ٹیکنالوجی اور سہولیات میسر ہوں گی ۔


---


### اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال


فرض کریں ایک شہر میں صرف ایک ہی بڑی بس سروس ہے جو بہت مہنگی ہے اور اپنی مرضی کے اسٹاپس پر رکتی ہے۔ اس بس سروس نے شہر کے تمام راستوں پر قبضے کر رکھا ہے تاکہ کوئی چھوٹی ویگن یا ٹیکسی وہاں نہ چل سکے۔ یہ **بینکوں کی بنائی ہوئی دیواریں** ہیں۔


اب اچانک ایک ایسی ٹیکنالوجی (جیسے بٹ کوائن) آتی ہے جو سڑکوں کے بجائے "اڑن طشتری" کی طرح کام کرتی ہے۔ اسے بس والوں کی بنائی ہوئی رکاوٹوں یا بند راستوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ ان کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔


جب بس والوں نے دیکھا کہ لوگ اڑن طشتری استعمال کر رہے ہیں، تو انہوں نے قانون بنا دیا کہ "جو بھی اڑن طشتری سے اتر کر ہمارے اڈے پر آئے گا، ہم اسے شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے" (یہ **اکاؤنٹ بند کرنے** کی مثال ہے)۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اب واپس بس اڈے پر جانے کے بجائے اپنی اڑن طشتریوں میں ہی رہنے لگے اور وہیں سے اپنا لین دین کرنے لگے (یہ وہ **88 فیصد پیسہ** ہے جو بینکوں میں واپس نہیں آیا)۔


کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس موضوع پر مزید کوئی خاص معلومات فراہم کروں؟


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔