اگر آپ کے پاس 10,000 روپے ہیں، اور آپ بینک میں رکھتے ہیں تو آپ کو **7 روپے** ملتے ہیں۔ اگر وہی پیسہ ڈیجیٹل شکل میں **اسٹیبل کوئن** میں رکھیں تو آپ کو **400 روپے** مل سکتے ہیں۔ کیونکہ بینک درمیان میں "مڈل مین" ہے جو آپ کا فائدہ خود رکھ لیتا ہے۔

 (26) The $6.6 Trillion Secret That KILLED The Clarity Act - YouTube



# آسان الفاظ میں کہانی


فرض کریں آپ کے پاس 10,000 روپے ہیں اور آپ انہیں کسی محفوظ جگہ رکھنا چاہتے ہیں۔


## پہلا راستہ: بینک

- آپ بینک میں پیسے رکھتے ہیں۔

- بینک آپ کو سال کے آخر میں صرف **7 روپے** دیتا ہے۔

- لیکن بینک آپ کے وہی پیسے لے کر سرکاری بانڈز (ایک محفوظ سرمایہ کاری) میں لگاتا ہے۔

- سرکاری بانڈز سے بینک کو **3.6%** منافع ملتا ہے، مگر وہ آپ کو اس میں سے تقریباً کچھ نہیں دیتا۔

- بینک آپ کے پیسوں پر **3.5%** کا منافع خود رکھ لیتا ہے۔


## دوسرا راستہ: اسٹیبل کوئن

- اب ایک نیا طریقہ آیا ہے جسے **اسٹیبل کوئن** کہتے ہیں۔

- یہ بھی ڈالر یا روپیہ ہی ہوتا ہے، لیکن ڈیجیٹل شکل میں۔

- کمپنیاں جیسے **Circle** یا **Coinbase** کہتی ہیں: "ہم آپ کے پیسے وہی سرکاری بانڈز میں لگائیں گے، لیکن منافع آپ کو دیں گے۔"

- تو آپ اپنے 10,000 روپے ڈیجیٹل شکل میں رکھیں گے اور آپ کو **سال میں 400 روپے** مل سکتے ہیں۔

- آپ کا انتخاب کیا ہوگا؟ 7 روپے یا 400 روپے؟ ظاہر ہے 400 روپے۔


## بینک کی پریشانی

بینکوں کو ڈر ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل گیا کہ وہ ڈیجیٹل پیسوں سے زیادہ منافع کما سکتے ہیں، تو وہ اپنا پیسہ بینک سے نکال کر اسٹیبل کوئن میں رکھیں گے۔  

امریکہ میں کل بینکوں میں **18.6 کھرب ڈالر** ہیں۔ اندازہ ہے کہ **6.6 کھرب ڈالر** بینکوں سے نکل کر اسٹیبل کوئن میں چلے جائیں گے۔  

یہ بینکوں کے کل جمع شدہ رقم کا **35%** ہوگا۔


## بینک کا جواب

بینکوں نے کہا: "اگر ہم سے پیسہ نکل گیا تو ہم لوگوں کو قرضے (جیسے گھر یا کاروبار کے لیے) نہیں دے پائیں گے۔ پوری معیشت ٹوٹ جائے گی۔"  

اس ڈر کی وجہ سے انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ **"کلیریٹی ایکٹ"** نامی قانون میں ایک شق شامل کی جائے:  

"کوئی بھی ڈیجیٹل اثاثہ فراہم کرنے والا صرف پیسہ رکھنے پر سود نہیں دے سکتا۔"  

یعنی اسٹیبل کوئن پر منافع دینا غیر قانونی ہو جاتا۔


## کریپٹو والوں کا رد عمل

Coinbase کے سربراہ برائن آرمسٹرانگ نے کہا: "یہ تو صرف بینکوں کی اپنی حفاظت کے لیے ہے۔ وہ چاہتے ہیں مقابلہ ختم ہو جائے۔"  

انہوں نے قانون کی حمایت واپس لے لی۔  

جس پر یہ قانون منظور نہ ہو سکا۔


## دنیا کے دوسرے حصے میں کیا ہو رہا ہے؟

امریکہ جہاں ڈیجیٹل ڈالر پر منافع دینا روکنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں **چین** اپنے ڈیجیٹل یوآن پر **0.05% سود** دے رہا ہے۔  

چین چاہتا ہے کہ لوگ ڈیجیٹل کرنسی استعمال کریں، اس لیے وہ انہیں فائدہ دے رہا ہے۔


## آگے کیا ہوگا؟

تین ممکنہ صورتیں ہیں:

1. **صورت اول:** قانونی الجھن رہے گی، لیکن لوگ نئے طریقے ڈھونڈ لیں گے جیسے ڈیفائی (DeFi) کے ذریعے منافع کمانا۔

2. **صورت دوم:** کوئی درمیانی راستہ نکلے گا، جیسے صرف پیسہ رکھنے پر نہیں بلکہ اسے استعمال کرنے پر منافع ملے۔

3. **صورت سوم:** ٹیکنالوجی جیت جائے گی۔ بینک کی روایتی زیادہ منافع کمانے والی روش ختم ہو جائے گی۔


## سبق:

بینک آپ کے پیسے سے بڑا منافع کما رہے ہیں اور آپ کو بہت تھوڑا دے رہے ہیں۔  

نئی ٹیکنالوجی آپ کو یہ فائدہ براہ راست دینا چاہتی ہے، لیکن پرانی طاقتیں اسے روک رہی ہیں۔  

یہ جنگ **منافع** اور **مسابقت** کی ہے۔  

آخر میں، جب لوگوں کو فائدہ نظر آئے گا، تو وہ نئی راہیں ڈھونڈ ہی لیں گے۔


---


**مثال کے طور پر:**  

اگر آپ کے پاس 10,000 روپے ہیں، اور آپ بینک میں رکھتے ہیں تو آپ کو **7 روپے** ملتے ہیں۔  

اگر وہی پیسہ ڈیجیٹل شکل میں **اسٹیبل کوئن** میں رکھیں تو آپ کو **400 روپے** مل سکتے ہیں۔  

کیونکہ بینک درمیان میں "مڈل مین" ہے جو آپ کا فائدہ خود رکھ لیتا ہے۔


یہ کہانی ہے **6.6 کھرب ڈالر کے راز** کی، جو بینکوں کو ڈرا رہا ہے کہ کہیں ان کا کاروبار ہی ختم نہ ہو جائے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔