(1) China vs US: Beijing Built Food Security Empire Feeding 1.4 Billion | Untold Story with Akmal Soomro - YouTube

 (1) China vs US: Beijing Built Food Security Empire Feeding 1.4 Billion | Untold Story with Akmal Soomro - YouTube

https://www.youtube.com/watch?v=98VdIsURing


چین نے اپنی ۱۴۰ کروڑ لوگوں کو کھانا کھلانے کا ایک ایسا زبردست نظام بنایا ہے کہ پوری دنیا حیران ہے۔ یہ کوئی عام کہانی نہیں، بلکہ ۲۱ویں صدی کی قومی طاقت کی نئی تعریف ہے۔ ڈاکٹر اكمل سومرو اسے "ان ٹولڈ سٹوری" کہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں کہ چین کی ترقی صرف فیکٹریوں، سڑکوں اور برآمدات سے ہوئی ہے۔ لیکن اصل طاقت اس سے بھی زیادہ بنیادی چیز میں ہے – یعنی زراعت کا نظام۔ 


چین کے پاس دنیا کی قابل کاشت زمین کا صرف ۷ فیصد حصہ ہے، پھر بھی وہ دنیا کی ۱۸ فیصد آبادی کو کھانا دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ عام حساب سے ڈھائی گنا زیادہ پیداوار کرتا ہے۔ یہ ایسا کارنامہ ہے جسے مغربی ماہرین تقریباً ناممکن سمجھتے تھے۔ تو یہ کیسے ممکن ہو رہا ہے؟ اس کی وجہ چین کا تین حصوں والا زبردست نظام ہے۔ ہم اسے آسان الفاظ میں "زرعی تین ستون" کہہ سکتے ہیں۔ پہلا ستون: بیجوں پر مکمل خودمختاری۔ دوسرا: پانی اور انفراسٹرکچر کا بہترین نظام۔ تیسرا: اناج کا بہت بڑا ذخیرہ۔ یہ تینوں مل کر ایسا مضبوط گھر بناتے ہیں جس کی نقل کوئی اور ملک نہیں کر سکا۔


سب سے پہلے بیجوں کی بات کرتے ہیں۔ جو بیجوں پر کنٹرول رکھتا ہے، وہ دراصل کھانے اور تہذیب پر کنٹرول رکھتا ہے۔ چین میں ایک بڑا "نیشنل کراپ جرم پلازم بینک" ہے جہاں منفی ۱۸ ڈگری سردی میں ۵ لاکھ ۲۰ ہزار مختلف قسم کے بیج محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بیجوں کا ذخیرہ ہے۔ ہر سال چینی سائنسدان تقریباً ۳ ہزار نئی قسمیں تیار کرتے ہیں۔ جبکہ امریکہ صرف ۴۰۰ نئی قسمیں بناتا ہے۔ 


مثال کے طور پر شمالی چین کے میدان میں بارش بہت کم ہوتی ہے (سالانہ اوسطاً ۵۵۰ ملی میٹر) اور مٹی میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ عام گندم کی قسم وہاں دو فصل میں ہی ختم ہو جاتی۔ لیکن چین نے ۴۰ سال محنت کر کے ایسی گندم کی قسمیں بنائیں جو نمک برداشت کر سکتی ہیں اور کم پانی میں بھی اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ نتیجہ؟ ۱۹۸۰ کے بعد شمالی چین میں گندم کی پیداوار ۳۴۰ فیصد بڑھ گئی۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں، بلکہ زرعی انقلاب ہے۔ 


چین نے دیکھا کہ مغربی کمپنیاں (جیسے مونسانٹو) لاطینی امریکہ اور افریقہ میں بیجوں کے پیٹنٹ خرید کر کسانوں کو ہر سال نیا بیج خریدنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس لیے چین نے فیصلہ کیا کہ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ آج چین کی مقامی کمپنیاں ۹۵ فیصد بیج مارکیٹ پر کنٹرول رکھتی ہیں۔ غیر ملکی بیج بیچنے سے پہلے کئی سال ٹیسٹ اور حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ یہ حفاظت پسندی نہیں، بلکہ قومی بقا کی حکمت عملی ہے۔


دوسرا ستون ہے پانی اور انفراسٹرکچر۔ چین ہائی سپیڈ ریل اور سڑکیں تو بناتا ہی ہے، لیکن سب سے بڑا کام پانی کا ہے۔ ۱۹۴۹ سے اب تک چین نے ۹۸ ہزار ڈیم بنائے جو باقی سارے دنیا کے ڈیموں سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ۴۶۰۰ کلومیٹر لمبی نہریں بنائیں جو زمین کے گرد ۱۱ چکر لگانے کے برابر ہیں۔ 


سب سے بڑا منصوبہ "جنوبی سے شمالی پانی کی منتقلی" ہے۔ اس میں یانگتزے دریا کا تازہ پانی خشک شمالی علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ تین روٹ ہیں: مشرقی، مرکزی اور مغربی۔ مشرقی روٹ پر ۳۸ ارب ڈالر خرچ ہوئے، مرکزی پر ۳۲ ارب۔ مغربی روٹ تو اب بھی بن رہا ہے اور تبت کے پہاڑوں کے نیچے سرنگ سے گزرے گا۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ پاناما کینال اس کے سامنے چھوٹی نالی لگتی ہے۔ 


نہ صرف بڑے ڈیم، بلکہ شمالی کھیتوں میں ۳۰ کروڑ سے زیادہ ڈرپ ایریگیشن سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ سسٹم مرکزی مانیٹرنگ سے جڑے ہیں۔ کسانوں کے موبائل پر الرٹ آتا ہے کہ "آج کتنے بجے پانی دینا ہے، کتنا دینا ہے اور کون سی فصل کو زیادہ دیکھ بھال چاہیے"۔ 


مثال کے طور پر اگر شدید خشک سالی آ جائے تو امریکہ کے مڈویسٹ علاقے بارش پر منحصر رہتے ہیں، لیکن چین کا نظام انجینئرڈ پانی پر چلتا ہے۔ چین ہر سال پانی کے انفراسٹرکچر پر ۱۸ ارب ڈالر خرچ کرتا ہے – جتنا بہت سے ملک پورا فوجی بجٹ خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے موسم کی تبدیلی اور خشک سالی کے باوجود چین تیار رہتا ہے۔


تیسرا ستون ہے اسٹریٹجک ذخیرہ۔ یہ سب سے خفیہ اور طاقتور حصہ ہے۔ چین کے پاس دنیا کا تقریباً ۶۵ سے ۶۹ فیصد مکئی کا ذخیرہ، ۶۰ فیصد چاول کا اور ۵۱ فیصد گندم کا ذخیرہ ہے۔ یعنی دنیا کا زیادہ تر اناج ایک ہی ملک کے پاس۔ 


امریکہ صرف ۳۰ دن کا ذخیرہ رکھتا ہے۔ یورپ بھی اسی قسم کا۔ لیکن چین کے پاس اتنا اناج ہے جو پوری آبادی کو کم از کم ۱۸ سے ۲۴ مہینے (یعنی ۲ سال) تک کھلا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر تمام کھیت تباہ ہو جائیں تب بھی حکومت ۲ سال تک لوگوں کو کھانا دے سکتی ہے۔ 


یہ ذخیرہ ۳۱ صوبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ بہت مضبوط عمارتیں ہیں جو بموں اور ایٹمی حملے سے بھی بچ سکتی ہیں۔ چین صرف خریدتا نہیں، بلکہ کسانوں سے فصل کاٹنے کے فوراً بعد سرکاری کمپنیاں جا کر مارکیٹ سے ۱۲ فیصد زیادہ قیمت پر خرید لیتی ہیں۔ ۲۰۲۳ میں گندم کی خریداری کی قیمت ۲.۳۶ یوان فی کلو تھی۔ اس سے کسان خوش، حکومت کو پہلا حق مل جاتا ہے۔ 


مثال کے طور پر ۲۰۲۲ میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو دنیا بھر میں گندم کی قیمتیں ۶۰ فیصد بڑھ گئیں۔ یورپ اور افریقہ میں بحران آ گیا۔ لیکن چین نے اپنے ذخیرے سے اناج جاری کر کے اندرونی قیمتیں مستحکم رکھیں۔ کوئی بھوک یا مہنگائی کا بحران نہیں آیا۔ 


اب تینوں ستون مل کر کیسے کام کرتے ہیں؟ بیج اچھے ہوں تو پیداوار اچھی۔ پانی کا نظام ہو تو خشک سالی میں بھی فصل بچ جائے۔ ذخیرہ ہو تو کوئی بھی بحران (جنگ، وبا، موسم کی تبدیلی) ۲ سال تک برداشت کیا جا سکے۔ یہ تینوں مل کر چین کو ایسی طاقت دیتے ہیں جو کوئی اور ملک نہیں رکھتا۔


آنے والے ۲۰ سالوں میں تین بڑی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ایک: گلوبل وارمنگ سے دنیا بھر میں پیداوار ۱۵ سے ۲۵ فیصد کم ہو سکتی ہے، لیکن چین کی نمک برداشت کرنے والی بیجوں، پانی کے نظام اور ذخیروں کی وجہ سے وہ کم نقصان اٹھائے گا اور زیادہ مضبوط ہو گا۔ 


دوسری: تجارت کی جنگوں میں کھانے کو ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ملک چین پر پابندیاں لگائے تو چین کا ۲ سال کا ذخیرہ اسے بچا لے گا۔ 


تیسری: اگر تائیوان یا جنوبی چین سمندر میں تناؤ ہو تو چین اپنے ذخیرے کھول کر یا روک کر دنیا کی مارکیٹ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ بغیر گولی چلائے صرف کھانے کے ذریعے دنیا کو اپنی بات منوا سکتا ہے۔


خلاصہ یہ کہ چین کا زرعی نظام صرف اپنے لوگوں کو کھانا دینے کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی، طاقت اور مستقبل کی حکمت عملی ہے۔ مغربی ممالک اب بھی اسے مکمل طور پر نہیں سمجھے۔ چین اس میدان میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اصل طاقت زمین، بیج، پانی اور ذخیرے سے آتی ہے۔ اللہ ہمیں بھی ایسی سوچ دے۔

Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔