(8) The $100K Lesson: Never Invest Out of FOMO - YouTube



**عنوان: ایک لاکھ ڈالر کا سبق: کبھی بھی FOMO کی وجہ سے سرمایہ کاری نہ کریں**


یہ کہانی ایک ایسی سرمایہ کاری کے بارے میں ہے جس میں ایک شخص نے ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور وہ رقم ضائع ہو گئی۔ یہ سرمایہ کاری ایک سونے کی کان کنی کی کمپنی میں کی گئی تھی، جو کہ ایک نجی سرمایہ کاری کا موقع تھا۔ اس موقع کو حاصل کرنے کے لیے چند سرمایہ کاروں کے لیے محدود وقت تھا، اور یہ موقع بہت جلد ختم ہونے والا تھا۔ اس شخص نے کمپنی کے منصوبوں، شیئر کی قیمت اور مستقبل کے امکانات کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ یہ سرمایہ کاری ان کے ایک لاکھ ڈالر کو دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس موقع کو حاصل کرنے کے لیے وقت بہت کم تھا، صرف دو سے تین دن۔ اس لیے اس شخص نے جلدی میں اپنی کچھ چیزیں بیچ دیں تاکہ سرمایہ کاری کے لیے رقم جمع کر سکیں۔


سرمایہ کاری کرنے کے بعد کمپنی کا انتظامیہ غائب ہو گیا، کوئی رابطہ نہیں رہا، اور جو منصوبے بتائے گئے تھے وہ سب غائب ہو گئے۔ اس شخص کو احساس ہوا کہ شاید وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو گئے ہیں، اور بدقسمتی سے یہ سچ ثابت ہوا۔ ان کے ایک لاکھ ڈالر ضائع ہو گئے۔ اس تجربے سے انہوں نے کچھ اہم سبق سیکھے جو دوسروں کے لیے بھی مفید ہو سکتے ہیں تاکہ وہ اس طرح کی غلطیوں سے بچ سکیں۔


### اہم سبق:

1. **اگر کوئی چیز بہت اچھی لگے تو شک کریں**: اگر کوئی سرمایہ کاری کا موقع بہت آسان اور منافع بخش لگتا ہے، تو شاید یہ سچ نہیں ہے۔ عام لوگوں کے لیے ایسی سرمایہ کاری کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں جو بہت زیادہ منافع دیں۔ اگر یہ واقعی اچھا موقع ہوتا، تو بڑے سرمایہ کار اسے پہلے ہی لے چکے ہوتے۔


2. **FOMO (خوفِ محرومی) سے بچیں**: اس شخص نے سرمایہ کاری اس لیے کی کیونکہ موقع چند دنوں میں ختم ہونے والا تھا، اور انہیں ڈر تھا کہ وہ اس موقع سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ "خوفِ محرومی" (Fear of Missing Out) سرمایہ کاری کے فیصلوں میں بہت خطرناک ہوتا ہے۔ جب آپ کو لگتا ہے کہ یہ آخری یا واحد موقع ہے بڑا منافع کمانے کا، تو آپ جلد بازی میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے مواقع کبھی ختم نہیں ہوتے۔ مارکیٹس ہمیشہ سے چلتی آ رہی ہیں اور ہمیشہ چلتی رہیں گی۔ اگر آپ ایک موقع سے محروم ہو جاتے ہیں، تو کوئی دوسرا موقع ضرور آئے گا۔ مثال کے طور پر، اگر آپ 2020 کے مارکیٹ کریش سے محروم ہو گئے، تو 2022 میں ایک اور کریش آیا، اور مستقبل میں بھی آئیں گے۔


3. **تحقیق کے بغیر سرمایہ کاری نہ کریں**: اس شخص کے پاس اپنی تحقیق (due diligence) کرنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ موقع ختم ہونے والا تھا۔ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ اگر آپ کے پاس کسی سرمایہ کاری کے بارے میں مکمل تحقیق کرنے کا وقت نہیں ہے، تو ایسی سرمایہ کاری سے دور رہیں۔ تحقیق کے بغیر کیا گیا فیصلہ اکثر نقصان دہ ہوتا ہے۔


### نتیجہ:

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سرمایہ کاری کے فیصلے جلد بازی یا خوف کی وجہ سے نہیں کرنے چاہئیں۔ ہمیشہ اپنی تحقیق کریں، اور اگر کوئی موقع بہت اچھا لگتا ہے تو اس پر شک کریں۔ مارکیٹ میں ہمیشہ نئے مواقع آتے رہتے ہیں، اس لیے کبھی بھی FOMO کی وجہ سے فیصلہ نہ کریں۔ اگر آپ تحقیق کے ساتھ اور صبر سے سرمایہ کاری کریں گے، تو آپ اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔


Comments

top post

ایکس آر پی کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ ایکس آر پی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے ریپل نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ یہ کرنسی خاص طور پر سرحد پار ادائیگیوں (یعنی مختلف ممالک کے درمیان پیسہ بھیجنے) کے لیے بنائی گئی ہے۔ آج اگر آپ نیویارک سے سنگاپور دس لاکھ ڈالر بھیجنا چاہیں تو عام طور پر اس میں 2 سے 5 دن لگ جاتے ہیں۔ یہ رقم کئی بینکوں سے گزرتی ہے اور ہر بینک اس پر اپنی فیس کاٹتا ہے۔ پورا عمل سست اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایکس آر پی کا بنیادی مقصد اسی پرانے، سست اور مہنگے نظام کو ختم کرنا ہے

بینک** اپنے بہت سے کام **پرائیویٹ بلاک چین** پر کرتے ہیں۔ بلاک چین تو وہی ٹیکنالوجی ہے جو کرپٹو کرنسی میں استعمال ہوتی ہے، لیکن بینک والا بلاک چین **پرائیویٹ** ہوتا ہے یعنی اس پر صرف بینک اور ان کے پارٹنر ہی دیکھ سکتے ہیں، عام لوگ نہیں۔

یہ کہانی ایک ڈیجیٹل کرنسی کی ہے جس کا نام ایتھریم ہے۔ یہ کرنسی صرف پیسہ منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ "سمارٹ معاہدوں" کے لیے مشہور ہے، یعنی خودکار معاہدے جو بغیر کسی درمیانی شخص کے پورے ہو جاتے ہیں۔ دوسری تہیں کا اثر** ایتھریم کا بنیادی نیٹ ورک مہنگا اور سست تھا، اس لیے لوگوں نے اس پر "دوسری تہیں" بنا لیں جو تیز اور سستی ہیں۔ یہ تہیں ایتھریم کے اوپر چلتی ہیں لیکن زیادہ تر فیس اور منافع خود رکھ لیتی ہیں۔

ایک زمانے میں روم دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ بادشاہ کے پاس دو مشکل راستے تھے: 1. خرچہ کم کرنا (لوگ ناراض ہو جائیں گے) 2. ٹیکس بڑھانا (امیر لوگ ناراض ہو جائیں گے) کوئی بھی یہ دونوں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے انہوں نے آسان راستہ چنا → **سکوں میں دھوکہ دینا شروع کر دیا**۔ - روم نے سکوں میں تانبا ملا کر پیسہ "چھاپا" → آج امریکہ کمپیوٹر پر ڈالر بناتا ہے۔ - روم کو 200 سال لگے زوال میں، امریکہ کو شاید 50 سال لگیں کیونکہ پیسہ چھاپنا بہت تیز ہے۔

آج کل موبائل ایپ سے پیسہ سیکنڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے — پرانے زمانے کی طرح لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ مثال: سلیکون ویلی بینک میں ایک دن میں 42 ارب ڈالر نکل گئے اور بینک گر گیا۔ **3. "بد انتظامی والے بینک" یعنی مینجمنٹ خراب والے بینک** - بینک بہت تیزی سے بڑھ رہا ہو (20-30% سالانہ) جبکہ معیشت صرف 2% بڑھ رہی ہو → یہ خطرناک ہے۔